“I abandoned my longing for you, and this is its end, That now it truly feels it is your work, your command.”
میں نے تیری تمنا ترک کر دی ہے اور اس کا یہ انجام ہے، کہ اب واقعی ایسا لگتا ہے کہ یہ تیرا ہی کام ہے۔
یہ شعر محبت اور چاہت کے ایک گہرے تضاد کو خوبصورتی سے بیان کرتا ہے۔ شاعر کہتے ہیں کہ جب انہوں نے محبوب کی تمنا ترک کر دی، تو اس ترک کرنے کا نتیجہ یہ نکلا کہ انہیں لگا کہ یہ سب محبوب کی ہی مرضی یا کرشمہ ہے۔ یہ ایک مکمل سپردگی کو ظاہر کرتا ہے، جہاں بے تعلقی بھی ایک طرح کا تعلق بن جاتی ہے، جو محبوب کے لازوال اثر کو نمایاں کرتا ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ گویا آخر کار سکون پانے کے لیے جو قربانی انہوں نے دی، وہ سکون بھی محبوب کا ہی دیا ہوا تحفہ ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
