છે સ્ખલન બે-ત્રણ પ્રસંગોમાં મને પણ છે કબૂલ,
કોણ જાણે કેમ આખી જિંદગી બદનામ છે.
“I confess to faltering in two or three instances,Yet who knows why my entire life is defamed.”
— مریض
معنی
مجھے بھی دو تین مواقع پر ہوئی لغزش تسلیم ہے، پھر بھی کون جانے کیوں میری پوری زندگی بدنام ہے۔
تشریح
یہ شعر بدنامی اور عوامی تاثر کی تلخ حقیقت کو خوبصورتی سے بیان کرتا ہے۔ شاعر کھلے دل سے چند غلطیوں کا اعتراف کرتا ہے، جو انسانی فطرت کا حصہ ہیں۔ لیکن وہ اس بات پر حیران ہے کہ کیسے محض چند لغزشوں نے اس کی پوری زندگی کو بدنام کر دیا ہے۔ یہ ایک گہرا مشاہدہ ہے کہ کس طرح چند خامیاں پوری ہستی پر چھا جاتی ہیں، اور معاشرتی رویہ کتنا بے رحم ہو سکتا ہے۔
Comments
Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.
No comments yet.
