“No further now can my decline proceed, Than for you, O Saqi, to believe my penitent deed.”
میرا پتن اب اس سے زیادہ نہیں ہو سکتا، کہ اے ساقی، تمہیں میری توبہ پر یقین آ جائے۔
یہ شعر بڑا خوبصورت اور طنزیہ ہے، ہے نا؟ شاعر، ساقی (شراب پلانے والے) سے مخاطب ہو کر کہتا ہے کہ اب اس سے زیادہ میرا زوال اور کیا ہو سکتا ہے؟ میری سب سے بڑی گراوٹ تو وہ ہوگی جب اے ساقی، تمہیں میری توبہ (پشیمانی) پر یقین آجائے۔ یہ دراصل ایک گہرا مذاق ہے، جہاں شاعر اپنی عادتوں میں اتنا مگن ہے کہ اسے لگتا ہے کہ ساقی کا اس کی توبہ پر یقین کر لینا ہی اس کا سب سے بڑا انجام ہو گا، کیونکہ اس کا مطلب ہو گا کہ اسے واقعی اپنی عادت بدلنی پڑے گی۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
