“My every tremor rested on your gentle grace,As ocean waves surge only on ocean's face.”
میری تمام بے چینی اور اضطراب تمہارے سہارے پر تھا، جیسے سمندر کی لہریں صرف سمندر پر ہی اٹھتی ہیں۔
یہ شعر ایک گہرے انحصار کو خوبصورتی سے بیان کرتا ہے۔ شاعر اپنی اندرونی بے چینی اور اضطراب کو سمندر کی لہروں سے تشبیہ دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ان کے تمام جذباتی اتار چڑھاؤ محبوب کے سہارے اور اس کے کرم پر مبنی ہیں۔ بالکل اسی طرح جیسے لہریں صرف سمندر کی سطح پر ہی اٹھتی ہیں اور موجود رہتی ہیں، شاعر محسوس کرتے ہیں کہ ان کا پورا وجود، یہاں تک کہ ان کی اندرونی بے ترتیبی بھی، محبوب سے جڑا ہوا ہے اور اسی پر منحصر ہے۔ یہ ایک خوبصورت استعارہ ہے کہ کس طرح کوئی شخص دوسرے کی زندگی کا بنیادی ستون بن سکتا ہے، وہ 'سمندر' بن سکتا ہے جس پر کسی کی پوری زندگی کے مدوجزر نمودار ہوتے ہیں۔
Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.
No comments yet.
