“O Mareez, I've seen saints upon the road,Whose very steps hold hundreds of abodes.”
اے 'مریض'، میں نے سڑکوں پر ایسے سنت دیکھے ہیں، جن کے قدموں میں سینکڑوں گھر ہوتے ہیں۔
مریز کا یہ خوبصورت شعر ان اولیاؤں کی شان بیان کرتا ہے جو بظاہر سڑکوں پر آوارہ گرد پھرتے ہیں۔ لیکن شاعر کہتا ہے کہ ان کے قدموں میں سینکڑوں گھر بار ہوتے ہیں۔ یہ ایک گہرا استعارہ ہے جو یہ بتاتا ہے کہ حقیقی روحانی ہستیاں جہاں بھی قدم رکھتی ہیں، لوگ انہیں اپنا مان لیتے ہیں اور ان کی ذات میں پناہ ڈھونڈتے ہیں، گویا ان کا وجود ہی سینکڑوں گھروں کا ٹھکانہ بن جاتا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
