“This eye has climbed the tower to behold the entire world,Upon that eye, a bandage you will not be able to bind now.”
یہ آنکھ ساری دنیا کو دیکھنے کے لیے برج پر چڑھ گئی ہے، اب تم اس آنکھ پر پٹی نہیں باندھ پاؤ گے۔
یہ خوبصورت شعر ایک ایسے شخص کی تصویر کشی کرتا ہے جس نے گہری بصیرت حاصل کر لی ہو، جیسے ایک آنکھ کسی بلند مینار پر چڑھ کر پوری دنیا کا نظارہ کر رہی ہو۔ یہ ایک ایسی ناقابل واپسی بیداری کے لمحے کی بات کرتا ہے، جہاں سمجھ پچھلی تمام حدوں سے آگے بڑھ جاتی ہے۔ ایک بار جب ایسی واضح اور وسیع نظر حاصل ہو جائے، تو پھر کوئی اس 'آنکھ' پر پٹی باندھ کر اسے گمراہ یا دھوکہ نہیں دے سکتا – جو سچ ایک بار دیکھ لیا جائے، اسے نہ تو بھلایا جا سکتا ہے اور نہ ہی چھپایا جا سکتا ہے۔
Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.
No comments yet.
