સામે જ ગૌર મુખ છે સ્થિરતા ધરીને
ને નેત્ર કાંઈ તિરછાં બનતાં ફરે છે;
“Right in front, a fair face, with stillness imbued,And the eyes, turning, become somewhat askew.”
— کلاپی
معنی
سامنے ہی ایک گورا چہرہ سکون کے ساتھ ہے، اور گھومتی ہوئی آنکھیں کچھ ترچھی ہو جاتی ہیں۔
تشریح
یہ شعر کسی محبوب کے دلکش چہرے اور اس کی نظروں کی دلنوازی بیان کرتا ہے۔ تصور کیجیے، ایک روشن اور پرسکون چہرہ جو سکون کا پیکر ہے، مگر اسی لمحے آنکھیں ذرا سی ترچھی ہو کر مڑتی ہیں۔ یہ اس نازک، شرمیلی یا شوخ نگاہ کو بخوبی قید کرتا ہے جو بغیر کچھ کہے کئی جذبات کا اظہار کرتی ہے اور دل موہ لیتی ہے۔
Comments
Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.
No comments yet.
