“Seeing my beloved face-to-face, I was utterly mad, you drank again, even you, but offered no drink to your friend.”
محبوب کو روبرو دیکھ کر میں پوری طرح دیوانہ تھا۔ تم نے بھی بار بار پی، مگر اپنے دوست کو نہیں پلایا۔
یہ شعر محبوب کو سامنے دیکھ کر ہونے والے شدید جنون اور مدہوشی کو خوبصورتی سے بیان کرتا ہے۔ شاعر کہتے ہیں کہ اپنے محبوب کو دیکھ کر وہ اس قدر دیوانے اور جذباتی ہو گئے تھے کہ گویا خود ہی محبت کے نشے میں سرشار ہوں۔ لیکن اس نشے اور بے خودی کے عالم میں ایک گلہ باقی رہتا ہے، کہ انہوں نے اس گہری خوشی کو اپنے یار (شاید خود شاعر یا کوئی اور ساتھی) کے ساتھ نہیں بانٹا، گویا انہیں اس محبت کے جام میں سے ایک گھونٹ بھی نہیں پلایا۔ یہ محبت کی اس شدید اور ذاتی کیفیت کو ظاہر کرتا ہے جہاں خوشی اتنی گہری ہوتی ہے کہ انسان اسے دوسروں سے بانٹنا بھول جاتا ہے۔
Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.
No comments yet.
