“Though we remain eternal slaves, we shall taste regal sway;For we are those who sleep, having made the master's heart our throne.”
ہم ہمیشہ غلام ہی رہیں گے، پھر بھی ہم بادشاہی کا مزہ چکھیں گے۔ کیونکہ ہم وہ ہیں جو مالک کے دل کو اپنا تخت بنا کر سوتے ہیں۔
ارے، یہ شعر کتنی خوبصورت متضاد بات کہتا ہے، ہے نا؟ یہ بڑی خوبصورتی سے تجویز کرتا ہے کہ جب ہم کسی پیارے یا کسی الٰہی 'مالک' کے تئیں پوری طرح سے خود کو وقف کر دیتے ہیں، بالکل ایک 'غلام' کی طرح، تو دراصل ہمیں ایک گہری اندرونی بادشاہت حاصل ہوتی ہے۔ تصور کیجیے کہ مالک کے قلب کو ہی اپنا تخت بنانا اور وہاں اتنی سکون سے آرام کرنا—یہ اپنے پن اور اندرونی اختیار کی اس گہری حس کی بات کرتا ہے جو کسی بھی دنیاوی طاقت سے کہیں زیادہ عظیم ہے۔
Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.
No comments yet.
