“If Ishq exists not, what then is God? The world, though crafted, what does it avail?If Ishq exists not, what then is the world? What can God Himself do but fail?”
اگر عشق (الٰہی محبت) نہ ہو تو خدا کیا ہے اور تخلیق کردہ دنیا کس کام کی؟ عشق کے بغیر دنیا کیا ہے، اور خدا خود بھی کیا کر سکتا ہے؟
یہ شعر بہت خوبصورتی سے بتاتا ہے کہ عشق، یعنی محبتِ الٰہی، ہی وجود کا اصل جوہر ہے۔ یہ سوال اٹھاتا ہے کہ اگر یہ گہرا عشق موجود نہ ہو، تو خدا اور پورے کائنات کا کیا مطلب رہ جاتا ہے، ان کا وجود کھوکھلا ہو جاتا ہے۔ شاعر کا اشارہ ہے کہ عشق محض ایک احساس نہیں، بلکہ وہ لازمی روح ہے جو ہر چیز کو مقصد اور زندگی بخشتی ہے، یہاں تک کہ خدا کی اپنی بنائی ہوئی دنیا اور طاقت کو بھی۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
