“You call me mad, O people, bestowing a thousand names! We are Mansoor's disciples, who play with the Divine!”
اے لوگو، تم مجھے دیوانہ کہتے ہو اور ہزاروں نام دیتے ہو۔ ہم منصور کے چیلے ہیں جو خدا سے کھیلنے والے ہیں۔
یہ شعر ایک ایسے صوفیانہ کی روح کو خوبصورتی سے بیان کرتا ہے جو الہی محبت کو اتنی گہرائی سے گلے لگاتا ہے کہ دنیا کو یہ جنون لگتا ہے۔ جب لوگ شاعر کو 'پاگل' کہتے ہیں یا اسے لاتعداد ناموں سے پکارتے ہیں، تو وہ منصور الحلاج سے اپنی نسبت بتاتا ہے، اس صوفی بزرگ نے جس نے مشہور طور پر 'انا الحق' کا اعلان کیا تھا۔ یہ صرف سرکشی نہیں ہے؛ یہ خدا کے ساتھ ایک پرجوش، گہرا تعلق کا اعلان ہے، خدا کے ساتھ ایک دل لگی رقص جو روایتی سمجھ اور سماجی فیصلوں سے بالاتر ہے۔ یہ اس گہرے سچ کو نمایاں کرتا ہے کہ حقیقی روحانی تعلق اکثر ان لوگوں کے لیے حماقت لگتا ہے جنہوں نے اس کا تجربہ نہیں کیا۔
Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.
No comments yet.
