Sukhan AI
सुख सागर का शील है , कोई न पावे थाह। शब्द बिना साधु नही , द्रव्य बिना नहीं शाह॥ 92॥

The nature of the bliss ocean is hard to fathom, no one can grasp it. A sage cannot exist without words, and a king cannot exist without wealth.

کبیر
معنی

سکھ کے سمندر کی حقیقت ایسی ہے کہ کوئی اسے پوری طرح سمجھ نہیں سکتا۔ ایک ولی کے لیے کلام ضروری ہے، اور ایک بادشاہ کے لیے مال ضروری ہے۔

تشریح

Kabir ji یہاں ایک گہرا مشاہدہ پیش کرتے ہیں کہ خوشی کے اس سمندر کا اصل حال سمجھنا انسان کے دائرہ کار سے باہر ہے۔ शायر نے یہاں زندگی کے دو متضاد پہلوؤں کو پیش کیا ہے: ایک ولی کو سچ کے لیے الفاظ کی ضرورت ہے، اور ایک بادشاہ کو اپنی سلطنت کے لیے دولت کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس شعر کا مفہوم یہ ہے کہ دنیاوی یا روحانی، ہر میدان میں اپنی شناخت برقرار رکھنے کے لیے کسی نہ کسی ذریعہ کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہ شعر ہمیں زندگی کی پیچیدہ حقیقتوں پر غور کرنے پر مجبور کرتا ہے۔

آڈیو

تلاوت
ہندی معنیIn app
انگریزی معنیIn app
ہندی تشریحIn app
انگریزی تشریحIn app
← Prev88 / 10