संत ही में सत बांटई , रोटी में ते टूक। कहे कबीर ता दास को , कबहूँ न आवे चूक॥ 88॥ मार्ग चलते जो गिरा , ताकों नाहि दोष। यह कबिरा बैठा रहे , तो सिर करड़े दोष॥ 89॥
“In the simple act of sharing, in a piece of bread, a bite is taken. Kabir says to his servant, never make a mistake. If one falls while walking, it is not fault. But if Kabir sits and assigns blame, that is a fault.”
— کبیر
معنی
سانت ہی میں سَت بانٹئی، روٹی میں تے ٹوک۔ کہے کبیر تا داس کو، کبھو نہ آوے چوک۔ اگر کوئی چلتے ہوئے گر جائے، تو وہ کوئی عیب نہیں۔ مگر اگر کبیر بیٹھا رہے اور عیب لگائے، تو وہ عیب ہے۔
تشریح
کبیر اس شعر میں ہمیں زندگی کے بہاؤ اور عمل کی سادگی سکھا رہے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ گر جانا یا غلطی کرنا تو فطری ہے، لیکن اصل قصور تو بیٹھ کر دوسروں کو الزام دینا ہے۔ ان کے نزدیک، صرف بیٹھ کر فیصلہ کرنا یا عیب نکالنا ہی سب سے بڑا روحانی جرم ہے۔ کبیر ہمیں یہ سبق دیتے ہیں کہ ہمیں نقد نظر سے بچنا چاہیے اور ہر حال کو خندہ پیشانی سے قبول کرنا چاہیے۔
← Prev85 / 10
