कबीर मन फूल्या फिरै , करता हूँ मैं घ्रंम। कोटि क्रम सिरि ले चल्या , चेत न देखै भ्रम॥ — کبیر
“Kabir's heart wanders around, and I am caught in illusion. Taking countless forms and paths, it wanders, seeing no delusion.”
معنی
کبیر کا دل گھومتا رہتا ہے، اور میں فریب میں آ جاتا ہوں۔ یہ دل لاتعداد شکل و صورت لے کر گھومتا ہے، اور کسی فریب کو نہیں دیکھتا۔
تشریح
کبیر یہاں دل کی بے قراریت اور دنیا کے فریب کا خوبصورت منظر پیش کر رہے ہیں۔ 'من پھولیا پھری' کا مطلب ہے کہ ہمارا دل ایک جگہ ٹھہر کر نہیں رہتا، یہ بس بھٹکتا رہتا ہے۔ یہ شاعر ہمیں بتا رہے ہیں کہ ہم خود ایک دھوکے میں جکڑے ہیں، جو بے شمار شکلیں اور راستے اختیار کرتا ہے مگر اپنے فریب کو نہیں دیکھ پاتا۔ یہ شاعری ہمیں اپنے ذہن کی بے چینی اور خود آگاہی پر غور کرنے کی دعوت دیتی ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
