“The form of pure name is milky white, the form of conduct is water. The form of a swan is a saint, who filters the truth.”
پاک نام کا روپ دودھ جیسا ہے، اور برتاؤ کا روپ پانی جیسا ہے۔ کوئی ولی حنس جیسا ہوتا ہے، جو سچائی کو چھانتا ہے۔
جب शायر کबीर کہتے ہیں کہ ستم نام کا روپ چھیر جیسا ہے، تو وہ خالص سچائی اور پاکیزگی کی بات کر رہے ہوتے ہیں۔ زندگی میں ہمارا برتاؤ پانی کی طرح ہونا چاہیے، یعنی بہاؤ میں ہونا چاہیے، کسی چیز سے جکڑا ہوا نہیں ہونا چاہیے۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ ایک سادح کو हंस جیسا ہونا چاہیے، کیونکہ وہ حقیقت اور فریب کے درمیان فرق کو بڑی آسانی سے چھان نکالتا ہے۔ یہ کلام शायर کا ایک گہرا پیغام ہے کہ سچ کو صرف عقل اور بصیرت سے پہچانا جا سکتا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
