जहाँ आपा तहाँ आपदां , जहाँ संशय तहाँ रोग। कह कबीर यह क्यों मिटे , चारों धीरज रोग॥ 26॥
“Where there is delusion, there is disaster; where there is doubt, there is disease. Kabir says, why should these four afflictions vanish: the four diseases of patience (or, the four forms of suffering)?”
— کبیر
معنی
جہاں آپا ہے، وہاں آفت ہے، اور جہاں شک ہے، وہاں بیماری ہے۔ شاعر کबीर पूछते हैं کہ یہ چار امراض کیوں مٹیں: صبر کے چار امراض۔
تشریح
یہ شعر زندگی کے گہرے سچ کو بیان کرتا ہے۔ کबीर کہتے ہیں کہ جہاں آپا (فریب یا غرور) ہے، وہاں آفت ہے؛ اور جہاں شک (تذبذب) ہے، وہاں بیماری ہے۔ شاعر یہ سوال کرتے ہیں کہ یہ چار قسم کے دکھ کیوں ختم ہوں؟ یہ صرف ذہن کی کشمکش اور شک کی وجہ سے ہونے والے دکھوں کی بات ہے، جن سے نکلنا ہی اصل صبر ہے۔
← Prev25 / 10
