कबिरा माला मनहि की , और संसारी भीख। माला फेरे हरि मिले , गले रहट के देख॥
“O Kabir, why do you string a rosary to your mind, or are you merely a worldly beggar? The Lord is found by spinning a rosary; see the one with the throat-bead (or garland)!”
— کبیر
معنی
اے شاعر، تو دل میں مالا کیوں سجاتا ہے، یا تو صرف ایک دنیاوی بھکاری ہے؟ خدا تو مالا پھیرنے سے ملتا ہے؛ گلے میں कंٹھئی والے کو دیکھ۔
تشریح
Kabir Shayar یہاں ظاہری رسم و رواج کی عبادت پر سوال اٹھا رہے ہیں۔ وہ پوچھتے ہیں کہ کیا یہ نذرانہ صرف دل کی تکرار ہے، یا آپ محض ایک دنیاوی بھیک مانگنے والے ہیں۔ حقیقی خدا کسی بیرونی عمل میں نہیں ملتا؛ وہ تو اپنے فطری اور سچے وجود میں پایا جاتا ہے۔ یہ 'گلے کی رت' اس گہرے، سہل تعلق کی علامت ہے جو صرف اعمال سے کہیں زیادہ ہے۔
