“The eye of wisdom, when broken, cannot discern right from wrong. To the one who has ten or twenty companions, that is called a great sage.”
विवेक کی آنکھ جب ٹوٹ جاتی ہے، تو وہ سنت اور غیر سنت میں فرق نہیں کر پاتی۔ جس شخص کے دس یا بیس ساتھی ہوتے ہیں، اسے مہنت کہا جاتا ہے۔
یہ شعر بہت گہرا خیال پیش کرتا ہے۔ کबीर کہتے ہیں کہ جب عقل و بصیرت کی آنکھ ہی خراب ہو جائے، تو انسان حق اور باطل میں فرق نہیں کر پاتا۔ یہاں 'بصیرت کی آنکھ' ایک استعارہ ہے جو ہماری اندرونی وضاحت کو ظاہر کرتی ہے۔ کबीर کا طنز ہے کہ جو شخص محض لوگوں کی بھیڑ سے گھرا ہوا ہوتا ہے، اسے لوگ مہنت کہہ کر پکارتے ہیں۔ اس سے مراد یہ ہے کہ ظاہری کامیابی یا رواج، کبھی بھی حقیقی علم یا حکمت کا معیار نہیں ہو سکتا۔
Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.
No comments yet.
