जब लगि भगति सकाम है , तब लग निष्फल सेव। कह कबीर वह क्यों मिले , निष्कामी तज देव॥ 78॥
“When devotion is for worldly gain, it is fruitless service. Kabir says, why ask for it, abandon devotion (to the gods).”
— کبیر
معنی
جب لگی بھیگتی سقاَم ہے، تب لگ نِشفَل سِیو۔ کہہ کबीर وہ کیوں ملے، نِشفِکامی تج دِیو۔
تشریح
یہ شعر ہمیں حقیقی عقیدت کی تعریف سکھاتا ہے۔ کبیر فرماتے ہیں کہ جب بھی ہماری عبادت کسی دنیاوی فائدے کی امید سے جڑی ہوتی ہے، تو وہ تمام خدمت بے کار ہو جاتی ہے۔ ان کا نقطہ نظر یہ ہے کہ کسی چیز کا مطالبہ کرنا ہی اس عقیدت کو گراں کر دیتا ہے۔ لہٰذا، وہ مشورہ دیتے ہیں کہ تمام توقعات کو ترک کر کے، صرف نیت کے لیے جینا ہی اصل آزادی کا راستہ ہے۔
Comments
Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.
No comments yet.
← Prev75 / 10
