मैं अपराधी जन्म का , नख-सिख भरा विकार। तुम दाता दु:ख भंजना , मेरी करो सम्हार॥ 63॥
“I am the sin of birth, flawed in every part. You are the giver of sorrow, please save me from this heart.”
— کبیر
معنی
میں پیدائش کا 죄 ہوں، ہر अंग میں flaw سے بھرا ہوا۔ اے عطا کرنے والے، غم کا بंजन کرو، اور میرے دل کو فنا کر دو۔
تشریح
یہ شعر انسان کی گہری خودداری اور فانی وجود کی حقیقت کو بیان کرتا ہے۔ کبیر کہتے ہیں کہ میرا وجود ہی پیدائشی گناہ ہے، ہر زاویے سے نقص سے بھرا ہے۔ سب سے بڑی نکتہ یہ ہے کہ وہ دکھ کے دینے والے سے ہی نجات کی التجا کر رہے ہیں۔ یہ ایک جذباتی اقرار ہے، جس میں शायر اپنی نادانی کو تسلیم کرتے ہوئے، صرف ذاتِ الٰہی کے رحم اور نجات کے منتظر ہیں۔
Comments
Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.
No comments yet.
← Prev60 / 10
