भक्ति गेंद चौगान की , भावे कोई ले जाय। कह कबीर कुछ भेद नाहिं , कहां रंक कहां राय॥ 60॥
“The ball of devotion, the grounds of Chowgan, who can carry it away? Kabir says there is no secret, neither beggar nor noble.”
— کبیر
معنی
بندگی کا گیند چوغن کی، کون لے جا سکتا ہے۔ شاعر کबीर کہتے ہیں کہ کوئی راز نہیں، نہ کوئی غریب ہے اور نہ کوئی نوبل۔
تشریح
یہ شعر کबीर کا ایک گہرا فلسفیانہ پیغام ہے کہ سچائی اور محبت کسی بھی سماجی طبقے کے لیے مخصوص نہیں ہے۔ 'بندگی کی گیند' اور 'چوگاں کا میدان' ایک ایسی چیز کی علامت ہیں جو ہر کسی کی دسترس میں ہے اور جسے کوئی بھی ملکیت نہیں بنا سکتا۔ کबीर کہتے ہیں کہ کوئی راز نہیں ہے، کیونکہ یہ محبت کا وہ نکھر ہے جو رندے اور نواب کے درمیان کا فرق مٹا دیتا ہے۔ ان کے ذریعے وہ ہمیں سکھاتے ہیں کہ انسان کی قدر اس کی حیثیت میں نہیں، بلکہ اس کے دل کی پاکیزگی میں ہوتی ہے۔
← Prev57 / 10
