“The name of the Guru is the destination; learn it from him, O seeker. A person without status or standing, truly has no Guru.”
گرو کا نام ہی مقصدی منزل ہے؛ اے طالب، اسے ان سے سیکھ لو۔ ایسا شخص جس کا کوئی مقام یا مرتبہ نہیں، درحقیقت اس کا کوئی گرو نہیں ہوتا۔
جب شاعر کہتے ہیں کہ سچائی کا نام ہی منزل ہے، تو وہ روحانی مقصد کی طرف اشارہ کر رہے ہوتے ہیں۔ یہ اشعار سکھاتے ہیں کہ حقیقی علم اور نجات کا راستہ صرف استاد کے علم سے ملتا ہے۔ یہ ایک گہرا جذباتی پیغام ہے کہ ہر انسان، چاہے اس کی دنیاوی حیثیت کچھ بھی ہو، ایک روحانی رہبر کا حقدار ہے۔ اس رہبری کے بغیر، روح ہمیشہ بھٹکی رہے گی۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
