साबुन बिचारा क्या करे , गाँठे राखे मोय। जल सो अरसां नहिं , क्यों कर ऊजल होय॥

“Poor soap, what can you do? You keep your knots (or: your secrets/attachments) close. Neither water nor time is sufficient; why do you become watery?”

— کبیر
معنی

اس بیچارے صابن کیا کرے، گانٹھیں رکھے مئے۔ جل سو ارسان نہی، کیوں کر اوجل ہوے॥ اس کا سادہ مطلب ہے کہ بیچارہ صابن کیا کر سکتا ہے، جو اپنی گانٹھیں/راز اندر رکھتا ہے۔ نہ پانی سے اور نہ وقت سے یہ ٹھیک ہو سکتا ہے، تو یہ کیوں پانی جیسا ہو جاتا ہے۔

تشریح

साबुन पूछ रहा है कि वह क्या करे، کیونکہ اس نے اپنے اندر گانٹھیں (راز یا لگاؤ) رکھی ہوئی ہیں۔ وہ پوچھتا ہے کہ نہ پانی سے اور نہ وقت سے ان گٹھنیں کھلیں گی، تو پھر یہ اتنا پانی دار کیوں ہو رہا ہے؟ یہ اشعار स्वयं के अंदरूनी बंधनों اور بیرونی दबावों पर एक गहरा तंज़ ہے۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوت
ہندی معنی
انگریزی معنی
ہندی تشریح
انگریزی تشریح
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.

← Prev62 / 10