लौ लागी विष भागिया , कालख डारी धोय। कहैं कबीर गुरु साबुन सों , कोई इक ऊजल होय॥ 463॥
“Lau, the poison has stained the body, time has washed it away. Kabir says, 'O Guru, with soap, there must be some pure water.'”
— کبیر
معنی
لَو لَگی زہر سے بدن داغدار ہو گیا، وقت نے دھو دیا۔ کबीर کہتے ہیں کہ اے گرو، صابن سے کچھ خالص پانی ہونا چاہیے۔
تشریح
کبیر کہتے ہیں کہ جب زندگی کے زہریلے داغ (لَو) اور وقت کی سخت دھار (کالکھ) بھی جسم کو دھو دیں، تب بھی روح کو صاف کرنے کے لیے گرو کے صابن کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہ بات بتاتی ہے کہ محض بیرونی اعمال یا وقت کا گزر جانا حقیقی تطہیر کے لیے کافی نہیں؛ روحانی رہنمائی (گرو) کا لمس لازمی ہے۔ کبیر کا یہ نقطہ نظر ہمیں سکھاتا ہے کہ دل کی گندگی صرف سچے علم سے ہی دھلتی ہے۔
Comments
Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.
No comments yet.
← Prev60 / 10
