कहना सो कह दिया , अब कुछ कहा न जाय। एक रहा दूजा गया , दरिया लहर समाय॥ 53॥
“I have said what needed to be said; nothing more can be spoken. One remains, the other has gone; the river's waves adjust themselves.”
— کبیر
معنی
کہنا سو کہہ دیا، اب کچھ کہا نہ جائے। ایک رہا دوسرا گیا، دریا لہر سمیجائے۔
تشریح
اس شعر میں، شاعر کا نقطہ نظر یہ ہے کہ بنیادی حقیقت بیان کر دی گئی ہے۔ اس کے بعد مزید کوئی بات اس قدر فطری تبدیلی کو روک نہیں سکتی۔ دریا کی لہروں کا خود کو سنبھال لینا ایک خوبصورت استعارہ ہے، جو بتاتا ہے کہ جب کوئی سچائی آشکار ہو جاتی ہے، تو زندگی اپنے آپ ہی اس کے مطابق ڈھل جاتی ہے۔
Comments
Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.
No comments yet.
← Prev50 / 10
