“Kabir, the devotee of saints, the servant of Paradise. Kabir, thus is the protection, like finding grass at the feet.”
کبیر کہتے ہیں کہ سنت کا چہرا اور پردیش کا داس (خادم) ہونا۔ وہ کہتے ہیں کہ حفاظت بھی ایسی ہی ہوتی ہے، جیسے قدموں کے نیچے گھاس مل جائے۔
جب کبیر کہتے ہیں کہ حفاظت کا حال گھاس کو پاؤں تلے پانے جیسا ہے، تو وہ ایک انتہائی عاجزانہ سچائی بیان کر رہے ہوتے ہیں۔ یہ کوئی شاندار یا نظر آنے والی ڈھال نہیں، بلکہ وہ نفاست ہے جو زندگی کے سب سے عام لمحے میں مل جاتی ہے۔ یہ شاعر ہمیں سکھاتے ہیں کہ سچے سنتوں اور پرماطما کا سہارا ہمیشہ ہمارے قدموں تلے، سب سے قریب اور سب سے آسان شکل میں موجود ہوتا ہے۔ یہ احساس ہمیں فخر سے نکل کر زندگی کو مکمل بھروسے کے ساتھ قبول کرنے کی تعلیم دیتا ہے۔
Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.
No comments yet.
