परनारी राता फिरैं , चोरी बिढ़िता खाहिं। दिवस चारि सरसा रहै , अति समूला जाहिं॥ — کبیر

परनारी राता फिरैं , चोरी बिढ़िता खाहिं। दिवस चारि सरसा रहै , अति समूला जाहिं॥

“The woman wanders at night, stealing morsels to eat. In the day, the sarasa remains, completely withered and dry.”

— کبیر

معنی

پرناری رات میں گھومتی ہے، چوری کر کے کھانے کے لیے نوالے لے جاتی ہے۔ دن میں، سرسا (بگلہ) مکمل طور پر مرجھایا اور سوکھا رہتا ہے۔

تشریح

کبیر کی شاعری محض ایک سادہ بیان نہیں ہے؛ یہ ایک گہرا سماجی اور روحانی تبصرہ ہے۔ پرناری کا رات میں بھٹکنا اور چوری کرنا، اس زندگی کی عدم استحکام اور لالچ کو ظاہر کرتا ہے جو دن کی روشنی میں قائم نہیں رہ سکتی۔ جس طرح سرسا دن میں خشک ہو جاتا ہے، اسی طرح کবির اشعار دنیاوی تعلقات اور مایا کی فانی حقیقت کو دکھاتے ہیں۔ शायर ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ حقیقی زندگی اور سکون ظاہری دکھاوے یا عارضی خوشیوں میں نہیں، بلکہ اندرونی سچائی میں پنہاں ہے۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوت
ہندی معنی
انگریزی معنی
ہندی تشریح
انگریزی تشریح
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.

← Prev75 / 10