~*~*~*~*~*~*~*~*~*~*~*~*~*~*~*~*~*~* भगति बिगाड़ी कामियां , इन्द्री केरै स्वादि। हीरा खोया हाथ थैं , जनम गँवाया बादि॥ — کبیر
“Beggars of devotion, indulging in desire, they lose diamonds from their hands, and waste their lives.”
معنی
بندگی کو خراب کرنے والی کامیت، حواس کو لذیذ لگتی ہے۔ اس کی وجہ سے انسان ہاتھ سے ہیرے کھو دیتا ہے اور اپنی زندگی برباد کر دیتا ہے۔
تشریح
کبیر صاحب ایک گہرا سبق دیتے ہیں کہ وہ لوگ جو بھگتوں کا روپ دھار کر رہتے ہیں مگر اپنی حواس کی لذتوں میں کھو جاتے ہیں، وہ دراصل اپنے ہاتھوں سے ہیرے گنوا دیتے ہیں۔ یہ ایک بہت اہم استعارہ ہے کہ یہ ہیرے روحانی پاکیزگی کی علامت ہیں، جو دنیاوی خواہشات سے بہت آسانی سے ضائع ہو جاتے ہیں۔ शायر ہمیں اس منافقت پر تنقید کرتے ہیں؛ وہ کہتے ہیں کہ حقیقی عقیدت کے لیے تو دل کا پاک ہونا ضروری ہے، ورنہ ہم نہ صرف وقت، بلکہ اپنی زندگی بھی ضائع کر دیتے ہیں۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
