“Kabir, I have left Rama, and my name is Mutia. By the anklet of Rama, wherever it pulls, I go.”
کبیر کہتے ہیں کہ میں رام کو چھوڑ چکی ہوں اور میرا نام متیا ہے۔ میں رام کی چوڑیاں سے بندھی ہوں، اور جہاں بھی وہ مجھے کھینچتی ہے، میں وہیں چلی جاتی ہوں۔
یہ کلام کبیر کا مکمل تسلیم اور فنا فی اللہ کا جذبہ پیش کرتا ہے۔ یہاں 'رام کی جےڑی' صرف ایک زیور نہیں، بلکہ وہ روحانی رشتہ ہے جو روح کو خدا سے جوڑے رکھتا ہے۔ کبیر کہتے ہیں کہ میرا نام موتیہ ہے، مگر میرا وجود اس رشتہ سے بندھا ہے جسے رادھا کی جےڑی کھینچتی ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ ہمیں اپنی مادی شناختوں سے نکل کر، مکمل طور پر خدا کے بل کھنچنے پر چلنا چاہیے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
