कबीर रेख स्यंदूर की , काजल दिया न जाइ। नैनूं रमैया रमि रह्मा , दूजा कहाँ समाइ॥

“O Kabir, the vermillion line, the kohl cannot reside; in these eyes, the charm of Krishna dwells, where else can it abide?”

— کبیر
معنی

کبیر کہتے ہیں کہ پیشانی پر سندور کی لکیر اور آنکھوں میں काजल نہیں ٹھہرتا؛ کیونکہ ان آنکھوں میں تو خود رمایا کا روپ بسیرا ہے، جو کہیں اور سما نہیں سکتا۔

تشریح

جب शायر کबीर کہتے ہیں کہ آنکھوں میں رمایا کا بسیرا ہے، تو اس کا مطلب ہے کہ محبت اور عشق کی کیفیت اتنی گہری ہے کہ کوئی بیرونی سجاوٹ اسے محدود نہیں کر سکتی۔ یہ صرف آنکھوں کی بات نہیں، بلکہ روح کے اس عروج کی بات ہے جو کسی بھی جسمانی لکیر سے زیادہ طاقتور ہے۔ کबीर فرماتے ہیں کہ الٰہی موجودگی ایک داخلی حقیقت ہے جو تمام ظاہری نشانات اور حدود سے بالاتر ہے۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوت
ہندی معنی
انگریزی معنی
ہندی تشریح
انگریزی تشریح
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.

← Prev67 / 10