“When we reach, we will say, 'We are filled with joy in that place.' Today, in the river, I say, 'What is wrong with Bigu?'”
پہنچنے پر ہم کہیں گے کہ ہم اس جگہ پر بہت خوش ہوں گے۔ آج میں دریا میں کہہ رہا ہوں کہ ’بِگُو کو کیا ہوا ہے‘۔
یہ شعر بہت گہرا ہے، کیونکہ یہ انسان کے دکھاوا اور حال کی غفلت پر تنقید کرتا ہے۔ شاعر کबीर کہتے ہیں کہ لوگ منزل پر پہنچ کر اپنی خوشی کا اظہار کریں گے، لیکن آج، دریا کے کنارے، وہ ایک عام مسئلے (بیگو) پر سوال اٹھا رہے ہیں۔ کबीर ہمیں سمجھاتے ہیں کہ ہم اکثر اپنے موجودہ سوالات اور جدوجہد کو نظرانداز کر کے، صرف آنے والے خوشی کے بارے میں بات کرتے رہتے ہیں۔ یہ وقت کے ساتھ انسانی رویے پر ایک شاندار طنز ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
