“The whole world is blissful, it eats and sleeps. But the servant Kabir is sorrowful, he remains awake and cries.”
سخیٰ سب سنسار ہے، کھا وے اور سوے۔ دکھیا داس کبیر ہے، جاگے اڑ روے۔
یہ شعر دنیا کی ظاہری خوشی اور اندرونی حقیقت کے درمیان فرق واضح کرتا ہے۔ کबीर فرماتے ہیں کہ یہ سارا جہاں آسودہ ہے، جو صرف زندگی گزارنے اور سو جانے میں مصروف ہے۔ لیکن کबीर خود کو 'غمگین' کہتے ہیں کیونکہ وہ جاگ رہے ہیں؛ وہ اس دنیا کے اندر چھپے ہوئے حقیقی دکھ اور حقیقت کو دیکھ رہے ہیں۔ یہ جاگنا ہی انہیں دنیا کی بے فکری سے دور کر کے ایک گہری روحانی تنہائی عطا کرتا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
