जो रोऊँ तो बल घटै , हँसो तो राम रिसाइ। मन ही माहिं बिसूरणा , ज्यूँ घुँण काठहिं खाइ॥ 259॥
“If I weep, my strength diminishes; if I laugh, Rama is pleased. In my heart, I am restless, like a branch being eaten by a saw.”
— کبیر
معنی
اگر میں روؤں تو طاقت کم ہو جاتی ہے، اور اگر میں ہنسوں تو رام راضی ہوتے ہیں۔ میرے دل میں بے قرار ہوں، جیسے کسی آری سے ٹہنی کو کاٹا جا رہا ہو۔
تشریح
یہ شعر انسان کی جذباتی کیفیت کا ایک گہرا جائزہ پیش کرتا ہے۔ شاعر کہہ رہے ہیں کہ رونا کمزوری لاتا ہے، مگر ہنسی سے ربِ کائنات راضی ہوتا ہے۔ دل کا 'گھون کاٹھیں کھائے' ہونا ایک بہت طاقتور استعارہ ہے، جو بے چین، مسلسل اضطراب کی عکاسی کرتا ہے۔ یہ کیفیت بتاتی ہے کہ روح ایک مسلسل جدوجہد میں ہے، جو ہی Kabir کے فلسفے کا مرکزی نقطہ ہے۔
Comments
Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.
No comments yet.
← Prev57 / 10
