“This is a home of love, it is not Khala's house. When we take off our heads and sit down at home.”
یہ تو گھر ہۓِ غم کا، خالہ کا گھر نہیں۔ سر اتار کر بیٹھیں گے گھر میں۔
جب کبیرؔ شاعر کہتے ہیں کہ یہ تو گھر ہۓ عشق کا، تو وہ کسی جسمانی مکان کی بات نہیں کر رہے ہوتے۔ یہاں ‘گھر’ سے مراد وہ روحانی حالت ہے جہاں کوئی پابندی یا ذات کا احساس نہیں ہوتا۔ کبیرؔ اشارہ کرتے ہیں کہ حقیقی سکون صرف تب ملتا ہے جب انسان اپنے تکبر اور دنیاوی رسوم و رواج کو اتار پھینکتا ہے۔ یہ شاعر ہمیں سکھاتے ہیں کہ سچا ٹھکانہ ہمارے اپنے دل میں ہے، جو کسی بیرونی حکم یا ظاہری اصول سے ماوراء ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
