ये तो घर है प्रेम का , खाला का घर नाहिं। सीस उतारे भुँई धरे , तब बैठें घर माहिं॥ 227॥
“This is a home of love, it is not Khala's house. When we take off our heads and sit down at home.”
— کبیر
معنی
یہ تو گھر ہۓِ غم کا، خالہ کا گھر نہیں۔ سر اتار کر بیٹھیں گے گھر میں۔
تشریح
جب کبیرؔ شاعر کہتے ہیں کہ یہ تو گھر ہۓ عشق کا، تو وہ کسی جسمانی مکان کی بات نہیں کر رہے ہوتے۔ یہاں ‘گھر’ سے مراد وہ روحانی حالت ہے جہاں کوئی پابندی یا ذات کا احساس نہیں ہوتا۔ کبیرؔ اشارہ کرتے ہیں کہ حقیقی سکون صرف تب ملتا ہے جب انسان اپنے تکبر اور دنیاوی رسوم و رواج کو اتار پھینکتا ہے۔ یہ شاعر ہمیں سکھاتے ہیں کہ سچا ٹھکانہ ہمارے اپنے دل میں ہے، جو کسی بیرونی حکم یا ظاہری اصول سے ماوراء ہے۔
Comments
Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.
No comments yet.
← Prev27 / 10
