मथुरा भावै द्वारिका , भावे जो जगन्नाथ। साधु संग हरि भजन बिनु , कछु न आवे हाथ॥ 224॥
“Mathura is beloved by Dwarka, and Dwarka by Jagannath. Without the company of saints and Hari's devotion, nothing comes to hand.”
— کبیر
معنی
مथुरा، دۄاریکا کو اپناتا ہے، اور دۄاریکا، جگناتھ کو۔ سادھو کی صحبت اور ہرے کے بھجن کے بغیر، ہاتھ میں کچھ نہیں آتا۔
تشریح
یہ شعر مقدس شہروں (Mathura, Dwarka, Jagannath) کے تعلق کو ایک خوبصورت استعارہ بنا کر پیش کرتا ہے۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ سب سے طاقتور مقامات بھی صرف عقیدت سے جڑے ہوتے ہیں۔ کبیر ہمیں سکھاتے ہیں کہ دنیاوی منزلیں یا روحانی کامیابی، سادھوؤں کی صحبت اور ہرے کے ذکر کے بغیر ممکن نہیں۔ حقیقی علم اور فلاح کے لیے رہنمائی اور خالص نذرانہ دونوں ضروری ہیں۔
Comments
Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.
No comments yet.
← Prev24 / 10
