भज दीना कहूँ और ही , तन साधुन के संग। कहैं कबीर कारी गजी , कैसे लागे रंग॥ 222॥
“I sing of Dīna, but of another; with the company of the body, I speak. Kabir says, 'O painter, what color do you think you are?'”
— کبیر
معنی
میں دینا کا بھجن کرتا ہوں، مگر کسی اور کا؛ میں جسم کی صحبت میں بات کرتا ہوں۔ شاعر کबीर کہتے ہیں، 'اے رنگِ ساز، تمہیں کون سا رنگ لگتا ہے؟'
تشریح
میں دینہ کا بھجن گاتا ہوں، پر کسی اور کا؛ جسم کے ساتھ یہ بات کہتا ہوں۔ کبیر کہتے ہیں، 'اے رنگین، تمہیں کیا رنگ لگتا ہے؟' یہ شعر بیرونی عقیدے سے ہٹ کر اندرونی حقیقت کی طرف توجہ مبذول کراتا ہے۔ کبیر ظاہری شناخت کو چیلنج کرتے ہیں، یہ بتاتے ہوئے کہ حقیقی جوہر کسی ایک نام یا شکل تک محدود نہیں ہو سکتا۔ یہ سوال ہمیں نظر آنے والے چہرے سے آگے دیکھ کر اپنے اندر کے اصل رنگ کو تلاش کرنے پر مجبور کرتا ہے۔
Comments
Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.
No comments yet.
← Prev22 / 10
