बन्धे को बँनधा मिले , छूटे कौन उपाय। कर संगति निरबन्ध की , पल में लेय छुड़ाय॥ 215॥
“How can the bound be bound, or the free be freed? By what means can the association be broken, and the moment be escaped?”
— کبیر
معنی
بندے کو باندھنا اور آزاد کو چھڑانا کس سے ممکن ہے؟ کس طریقے سے اس تعلق کو توڑا جا سکتا ہے اور لمحے سے بچا جا سکتا ہے۔
تشریح
Kabir साहब ने यहाँ एक गहरा تضاد پیش کیا ہے۔ وہ پوچھتے ہیں کہ کسی کو بندھنا کیسے ممکن ہے، یا کسی کو آزاد کرنا کیسے ممکن ہے۔ یہ شعر ہمیں سکھاتا ہے کہ دنیا کے رشتے اور وقت کا چکر اتنا گہرا ہے کہ اس سے مکمل چھٹکارا پانا بہت مشکل ہے۔ یہ ہمیں اپنی تقدیر اور تعلقات کے بندھن پر غور کرنے کی ترغیب دیتا ہے۔
Comments
Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.
No comments yet.
← Prev15 / 10
