“How can the bound be bound, or the free be freed? By what means can the association be broken, and the moment be escaped?”
بندے کو باندھنا اور آزاد کو چھڑانا کس سے ممکن ہے؟ کس طریقے سے اس تعلق کو توڑا جا سکتا ہے اور لمحے سے بچا جا سکتا ہے۔
Kabir साहब ने यहाँ एक गहरा تضاد پیش کیا ہے۔ وہ پوچھتے ہیں کہ کسی کو بندھنا کیسے ممکن ہے، یا کسی کو آزاد کرنا کیسے ممکن ہے۔ یہ شعر ہمیں سکھاتا ہے کہ دنیا کے رشتے اور وقت کا چکر اتنا گہرا ہے کہ اس سے مکمل چھٹکارا پانا بہت مشکل ہے۔ یہ ہمیں اپنی تقدیر اور تعلقات کے بندھن پر غور کرنے کی ترغیب دیتا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
