“If you sow a thorn, you shall sow that; if you sow a flower, you shall sow that. You are the flower of the mouth, but you possess the trident.”
جیسا بیج بوؤ گے، ویسی ہی فصل کاٹے گا۔ اگرچہ تم منہ سے پھول جیسا بات کرو گے، مگر تمہارے پاس ত্রিশول جیسی طاقت ہے۔
دیکھو، کبیر اس شعر میں کَرم کے اصول کی بات کرتے ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ جو بوو گے، وہی کاٹ ہوگا۔ دوسرا مصرع بہت گہرا ہے—آپ کی زبان کی بات پھولوں جیسی میٹھی ہو سکتی ہے، لیکن ترشول یہ اشارہ دیتا ہے کہ آپ کے اندر ایک بہت بڑی، شاید چھپی ہوئی، طاقت موجود ہے۔ یہ خود شناسی کا پیغام ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
