चलती चक्की देख के , दिया कबीरा रोय। दुइ पट भीतर आइके , साबित बचा न कोय॥ 187॥
“Seeing the running mill, Kabir wept. Once it enters the two halves, nothing is saved.”
— کبیر
معنی
چلتی چکی دیکھ کے، کبیرا روئے۔ دو پاٹ کے اندر آ کے، ثابت بچا نہ کوئی۔
تشریح
کبیر اس شعر میں چلتی چکی کو زندگی کے مسلسل اور ناقابلِ روک بہاؤ کا استعارہ بنایا ہے۔ جب وہ چکی دیکھ کر روتے ہیں، تو یہ انسان کی بے بسی اور دنیا کی حقیقت کا اظہار ہے۔ اس کا پیغام ہے کہ ایک بار جب انسان اس زندگی کے چکر میں آ جاتا ہے، تو کوئی بھی چیز، چاہے وہ نیکی ہو یا گناہ، بچ نہیں سکتی۔ یہ ہمیں سکھاتا ہے کہ ہمیں ہر چیز سے لگاؤ چھوڑ کر، ہر لمحے میں جینا چاہیے۔
Comments
Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.
No comments yet.
← Prev84 / 10
