“Seeing the running mill, Kabir wept. Once it enters the two halves, nothing is saved.”
چلتی چکی دیکھ کے، کبیرا روئے۔ دو پاٹ کے اندر آ کے، ثابت بچا نہ کوئی۔
کبیر اس شعر میں چلتی چکی کو زندگی کے مسلسل اور ناقابلِ روک بہاؤ کا استعارہ بنایا ہے۔ جب وہ چکی دیکھ کر روتے ہیں، تو یہ انسان کی بے بسی اور دنیا کی حقیقت کا اظہار ہے۔ اس کا پیغام ہے کہ ایک بار جب انسان اس زندگی کے چکر میں آ جاتا ہے، تو کوئی بھی چیز، چاہے وہ نیکی ہو یا گناہ، بچ نہیں سکتی۔ یہ ہمیں سکھاتا ہے کہ ہمیں ہر چیز سے لگاؤ چھوڑ کر، ہر لمحے میں جینا چاہیے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
