Sukhan AI
गारी ही सो ऊपजे , कलह कष्ट और भींच। हारि चले सो साधु हैं , लागि चले तो नीच॥ 186॥

The one who leaves with humility, conflict and distress will cease. The one who walks with the saintly demeanor, is truly virtuous; the one who walks with greed, is base.

کبیر
معنی

جو شخص عاجزی، جھگڑے اور پریشانی کے ساتھ چلا جاتا ہے، تو وہ بھی ختم ہو جائے گا۔ جو سادگی سے چلتا ہے، وہ واقعی نیک ہے؛ اور جو لالچ سے چلتا ہے، وہ نیچ ہے۔

تشریح

کبیر اس شعر میں زندگی کا ایک گہرا فلسفہ بیان کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ جب انسان غرور اور جھگڑوں کو ترک کر کے عاجزی سے زندگی گزارتا ہے، تو سارے دکھ درد ختم ہو جاتے ہیں۔ شاعر نے دو طرح کے سفر کی تمثیل کی ہے: ایک جو سادگی اور روحانیت سے بھرا ہو، وہ سچا ہے۔ جبکہ جو لالچ اور خواہشات سے چلتا ہے، وہ صرف حقارت ہے۔ کبیر ہمیں سکھاتے ہیں کہ اصل سکون اور آزادی جسمانی دنیا میں نہیں، بلکہ دل کی سادگی میں پنہاں ہے۔

آڈیو

تلاوت
ہندی معنیIn app
انگریزی معنیIn app
ہندی تشریحIn app
انگریزی تشریحIn app
← Prev83 / 10