कबिरा यह तन जात है , सके तो ठौर लगा। कै सेवा कर साधु की , कै गोविंद गुनगा॥ 177॥
“O Kabira, this body is perishable, if you can find a place for it. What service can be done to a saint, or to the praises of Govinda?”
— کبیر
معنی
اے کبیرہ، یہ تن فنا ہو رہا ہے، اگر تم اس کے لیے کوئی ٹھکانہ ڈھونڈ سکتے ہو۔ سادھو کی خدمت میں یا گووند کے گن گانے میں کیا خدمت کی جا سکتی ہے؟
تشریح
جب شاعر کबीर کہتے ہیں کہ یہ تن جاتا ہے، تو ان کا مطلب ہے کہ یہ جسم محض ایک عارضی پردہ ہے۔ کबीर صاحب اس بات پر زور دیتے ہیں کہ زندگی کی فانیت کو تسلیم کرنا ہی سب سے بڑی خدمت ہے۔ چونکہ جسم عارضی ہے، اس لیے نہ تو سادھو کی خدمت سے اور نہ ہی گویند کے نعت خوانی سے کوئی مستقل نجات مل سکتی۔ یہ اشعار ہمیں مادی تعلقات سے اوپر اٹھ کر روح کی ابدی حقیقت پر توجہ دینے کا پیغام دیتے ہیں۔
Comments
Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.
No comments yet.
← Prev74 / 10
