“Kabir, this world is nothing but bitter and sweet. Yesterday, who sat in the granary, today has been thrown out.”
کبیر کہتے ہیں کہ یہ دنیا نہ کڑوی ہے اور نہ میٹھی۔ کل جو شخص خزانوں میں بیٹھا تھا، آج اسے باہر پھینک دیا گیا ہے۔
کبیر فرماتے ہیں کہ یہ دنیا نہ صرف میٹھی ہے اور نہ ہی کڑوی، بلکہ ایک عارضی منظر ہے۔ انہوں نے اناج کے گودام کا جو استعارہ استعمال کیا ہے، وہ عہدے اور دولت کی فانی نوعیت کو بیان کرتا ہے۔ کبیر کا یہ شعر ہمیں سکھاتا ہے کہ دنیا کی تمام نعمتیں اور شان و شوکت بہت ہی عارضی ہیں، اور انسان کو किसी भी चीज़ पर भरोसा नहीं کرنا چاہیے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
