“The true devotee (pir) is he who does not depend on the divine; the one who depends on the divine is the devotee of the infidel. O Kabir, the mind is a bird, which, having been kept by the peacock, dwells in anguish. It remains wrapped in the garland of poison, yet desires to taste the fruit of nectar.”
کبیرا کہتے ہیں کہ سچا پیر وہ ہے جو کسی پر انحصار نہ کرے؛ جو کسی پر انحصار کرتا ہے، وہ کافر کا پیر کہلاتا ہے۔ دل ایک پرندہ ہے جسے مور نے پکڑ لیا ہے اور جو اذیت میں رہتا ہے؛ وہ زہر کے ہار میں لپٹا ہے، پھر بھی نکتار کا پھل چکھنا چاہتا ہے۔
جب ہم کबीर کے ان اشعار پر غور کرتے ہیں، تو یہ صرف دینی نصیحت نہیں، بلکہ انسانی ذہن کی پیچیدگی کی عکاسی ہے۔ پہلے شعر میں، کबीर بتاتے ہیں کہ سچا مرید وہ ہے جو کسی بیرونی سہارے پر منحصر نہ ہو۔ جو منحصر ہوتا ہے، وہ جھوٹے سہارے کا پرستار بن جاتا ہے۔ دوسرے شعر میں، انہوں نے دل کو ایک پریشان پرندے سے تشبیہ دی ہے، جو اپنے خوبصورت قید میں پھنسا ہوا ہے۔ وہ زہر کے ہار میں لپٹا ہوا ہے، پھر بھی نکتار کا ذائقہ چکھنے کی تڑپ رکھتا ہے—یہ دل کی متضاد خواہشات کو ظاہر کرتا ہے۔
Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.
No comments yet.
