कहा कियो हम आय कर , कहा करेंगे पाय। इनके भये न उतके , चाले मूल गवाय॥ 162॥
“Where shall we go, where shall we settle? We have lost our original way, and cannot proceed.”
— کبیر
معنی
کہا کہے ہم آیں کر، کہا کریں گے پائے۔ اِنکے بھے نہ اٹکے، چلے مِل گواے۔
تشریح
یہ شعر گہرے وجودی سوالات کو اٹھاتا ہے۔ 'ہم کہاں جائیں گے؟' کا سوال جغرافیائی نہیں، بلکہ روحانی سمت سے متعلق ہے۔ کبیر کہتے ہیں کہ ہم اپنے اصل راستے سے اتنا بھٹک گئے ہیں کہ اب آگے کا کوئی راستہ نظر نہیں آتا۔ یہ اشعار ہمیں اپنی بنیادی سچائی کو یاد دلاتے ہیں اور روحانی رہنمائی پر غور کرنے کی دعوت دیتے ہیں۔
Comments
Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.
No comments yet.
← Prev60 / 10
