कबीरा सोया क्या करे , उठि न भजे भगवान। जम जब घर ले जाएँगे , पड़ा रहेगा म्यान॥ 158॥
“What good is Kabiira sleeping? He won't wake up to worship God. When Yama takes him home, he will remain in his sheath.”
— کبیر
معنی
کبیرا سو رہا ہے، تو وہ خدا کی عبادت نہیں کرے گا۔ جب یم اسے گھر لے جائیں گے، تو وہ مصلوب رہے گا۔
تشریح
جب شاعر کबीर کہتے ہیں کہ سونا کیا کرے، تو وہ محض رسومات کی بات نہیں کر رہے ہوتے۔ یہاں 'म्यान' کا استعارہ بہت گہرا ہے؛ یہ صرف کپڑے کی بات نہیں، بلکہ وہ ضبط شدہ نفس یا وہ گرا ہوا علم ہے جو باقی رہتا ہے۔ کबीर اشارہ کرتے ہیں کہ جب یمٰ کی آمد ہوگی، تو باہر کے دکھاوے سے عبادت بے معنی ہو جائے گی، کیونکہ اصل روح، جو اندر ہے، وہ کسی بھی بیرونی رسم سے متاثر نہیں ہو سکتی۔ یہ شعر ہمیں سکھاتا ہے کہ حقیقی روحانیت ظاہری اعمال میں نہیں، بلکہ اپنے وجود میں پائی جاتی ہے۔
← Prev56 / 10
