को छूटौ इहिं जाल परि , कत फुरंग अकुलाय। ज्यों-ज्यों सुरझि भजौ चहै , त्यों-त्यों उरझत जाय॥ 157॥
“How can I escape this net of yours, O foreign one? As much as I desire to worship you, so much you withdraw.”
— کبیر
معنی
اے پرانی! میں اس جال سے کیسے چھٹکارا پاؤں؟ جتنا میں تمہیں پرستش کرنے کا چاہوں گا، اتنا ہی تم دور ہوتی جاؤ گی۔
تشریح
کبیر کہتے ہیں کہ یہ دنیا ایک ایسا جال ہے جس سے نکلنا ناممکن ہے۔ وہ بیرونی کششوں کا موازنہ ایک ایسے محبوب سے کرتے ہیں جو جتنا قریب آنے کی کوشش کرتا ہے، اتنا ہی دور ہوتا جاتا ہے۔ یہ شعر انسان کے دل کی چنچل فطرت اور مایا کے بندھن کو دکھاتا ہے، جہاں وسوسوں کا چکر چلتا رہتا ہے۔
← Prev55 / 10
