“One who associates with the company of ascetics, And eats only the husk of mustard seeds. If he gets food like sweet rice and sugar, He does not associate with such people.”
شاعِر کہتے ہیں کہ سادح کی صحبت جو جو کی بھوسی کھانے والے سادح جیسی ہے، وہ کھیر اور کھند جیسے مزیدار کھانے سے بھی نہیں مل سکتی۔
کبیرؒ یہاں جوار کی بھوسی اور کھیر کی مثال دے کر سادگی اور دنیاوی آسائشوں کے درمیان ایک گہرا تضاد پیش کرتے ہیں۔ بھوسی سخت ریاضت اور تپش کی علامت ہے، جبکہ میٹھی کھیر دنیا کی عارضی خوشیوں کی نمائندگی کرتی ہے۔ شعر کا پیغام یہ ہے کہ جو شخص سچائی کے راستے پر چلنے کا عزم کرتا ہے، وہ سہولت کے جھانسے میں آ کر اپنے اصولوں سے نہیں ڈگمگاتا۔ یہ ایک سبق ہے کہ روحانی لگن مال و دولت سے کہیں زیادہ قیمتی ہوتی ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
