“Days pass like this, with uncontained affection. Opportunities do not sprout where they are not sown, nor does rain fall where it is not called.”
شاعر کہے کہ دن ایسے گزر گئے، بے قابو محبت کے ساتھ۔ مواقع ان جگہوں پر نہیں اُگتے جہاں انہیں بویا نہ گیا ہو، اور نہ ہی بارش وہاں ہوتی ہے جہاں اسے بلایا نہ گیا ہو۔
یہ شعر وقت کے گزر جانے اور محنت کی اہمیت کو بیان کرتا ہے۔ शायر ہمیں سمجھاتا ہے کہ وقت کا بہاؤ مسلسل ہے اور بے باک محبت بھی وقت کے ساتھ ختم ہو جاتی ہے۔ اس میں ایک گہرا استعارہ ہے کہ زندگی میں کوئی بھی موقع بغیر کوشش کے حاصل نہیں ہوتا۔ جس طرح کھیتی میں بیج بونا پڑتا ہے اور بارش کا انتظار کرنا پڑتا ہے، اسی طرح زندگی میں نتائج صرف اپنے عمل اور ارادوں سے حاصل ہوتے ہیں۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
