Sukhan AI
केतन दिन ऐसे गए , अन रुचे का नेह। अवसर बोवे उपजे नहीं , जो नहीं बरसे मेह॥ 133॥

Days pass like this, with uncontained affection. Opportunities do not sprout where they are not sown, nor does rain fall where it is not called.

کبیر
معنی

شاعر کہے کہ دن ایسے گزر گئے، بے قابو محبت کے ساتھ۔ مواقع ان جگہوں پر نہیں اُگتے جہاں انہیں بویا نہ گیا ہو، اور نہ ہی بارش وہاں ہوتی ہے جہاں اسے بلایا نہ گیا ہو۔

تشریح

یہ شعر وقت کے گزر جانے اور محنت کی اہمیت کو بیان کرتا ہے۔ शायر ہمیں سمجھاتا ہے کہ وقت کا بہاؤ مسلسل ہے اور بے باک محبت بھی وقت کے ساتھ ختم ہو جاتی ہے۔ اس میں ایک گہرا استعارہ ہے کہ زندگی میں کوئی بھی موقع بغیر کوشش کے حاصل نہیں ہوتا۔ جس طرح کھیتی میں بیج بونا پڑتا ہے اور بارش کا انتظار کرنا پڑتا ہے، اسی طرح زندگی میں نتائج صرف اپنے عمل اور ارادوں سے حاصل ہوتے ہیں۔

آڈیو

تلاوت
ہندی معنیIn app
انگریزی معنیIn app
ہندی تشریحIn app
انگریزی تشریحIn app
← Prev32 / 10