लोग भरोसे कौन के , बैठे रहें उरगाय। जीय रही लूटत जम फिरे , मैँढ़ा लुटे कसाय॥ 120॥
“Whose trust shall the crane rest upon, dwelling in its heart? I, who live by looting, roam about, taking plunder.”
— کبیر
معنی
لوگ کس پر بھروسہ کر کے بیٹھے رہیں، اے اُرگائے۔ میں تو جی کر لوٹتی ہوں، جنگل میں گھوم کر، اور سامان لوٹ کر.
تشریح
Kabir Shayar اس شعر میں بھروسے اور دھوکے کے موضوع پر ایک گہرا تبصرہ کیا ہے۔ پرندے کا دل کسی بیرونی بھروسے پر ٹھہرتا ہے، جو انسان کی بیرونی عقائدوں پر انحصار کی عکاسی کرتا ہے۔ لیکن शायر خود کو ایک ایسے مسافر کے طور پر پیش کرتے ہیں جو اپنی زندگی محض لوٹ مار اور مادی منافع میں گزارتا ہے۔ یہ اشعار سکھاتے ہیں کہ حقیقی سہارا کہیں باہر نہیں، بلکہ خود کی بیداری اور حقیقت میں موجود ہے۔
Comments
Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.
No comments yet.
← Prev20 / 10
