कबीर जात पुकारया , चढ़ चन्दन की डार। बाट लगाए ना लगे फिर क्या लेत हमार॥ 119॥
“Kabir called out, 'I have climbed the sandalwood path. If the way is not set, then what shall we take?'”
— کبیر
معنی
کبیر نے پکارا، 'میں چنادر کے راستے پر چڑھ گیا ہوں۔ اگر راستہ نہیں ملا، تو پھر ہم کیا لیں گے؟'
تشریح
یہ شعر کबीर کے روحانی سفر کے گہرے احساس کو بیان کرتا ہے۔ چنبیلی کی ڈار یہاں محض ایک راستہ نہیں، بلکہ سچائی کی تلاش کے مشکل سفر کی علامت ہے۔ کबीर پوچھ رہے ہیں کہ اگر یہ راستہ خود واضح نہ ہو یا اس کا کوئی یقینی منزل نہ ملے، تو ہماری زندگی کا مقصد کیا ہو گا؟ یہ اشعار ہمیں سکھاتے ہیں کہ ہمیں ظاہری راستوں پر بھروسہ کرنے کے بجائے اپنے اندرونی یقین اور خدا کے لیے اٹوٹ سپردگی پر اعتماد کرنا چاہیے۔
Comments
Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.
No comments yet.
← Prev19 / 10
